April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/esperanzaazteca.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

پرنسس آف ویلز، شاہی خاندان کی بڑی بہو کیٹ مڈلٹن نے پرنس ولیم سے شادی کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر بات کی ہے۔

کیٹ مڈلٹن نے اعتراف کیا کہ ان کی صحت کے مسائل اور رہائش کے بارے میں تنازعات کے درمیان سماجی دباؤ اور رِدعمل کو سنبھالنا ’اعصاب شکن‘ تھا۔

یاد رہے کہ شہزادی کیٹ مڈلٹن کو آخری بار کرسمس کے موقع پر دیکھا گیا تھا اور بعد ازاں اِن کے ونڈسر پیلس میں پیٹ کی سرجری کے بعد صحت یاب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

اپنی ذات سے متعلق پھیلی افواہوں سے نمٹنے کے لیے کیٹ مڈلٹن نے ’مدرز ڈے‘ کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی تھی جو کہ بعد ازاں جعلی نکلی اور کیٹ نے خود اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔

جعلی تصویر پر آنے والا ردِ عمل شہزادی کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی کیوں کہ وہ پرنس ولیم سے شادی کے بعد سے مختلف طرح کے عوامی ردِعمل کا سامنا کرتی آئی ہیں۔

2011ء میں ’آئی ٹی وی‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیٹ سے پوچھا گیا کہ ’آپ کہتی ہیں کہ آپ اپنے خاندان سے بہت قریب ہیں، کیا آپ کو یہ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے؟ یا کیا آپ اپنی تمام اجتماعی پشت پناہیوں کو اس بنیاد پر جاری رکھے ہوئے ہیں کہ آپ کو اب اسی خاندان کے ساتھ رہنا ہے؟

اس سوال کے جواب میں کیٹ کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے میرے گھر کے افراد  میرا بہت ساتھ دیتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے قریبی دوستوں اور قریبی خاندان کے لیے واقعی اہمیت رکھتے ہیں۔‘

کیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ سچے لوگ ہیں، اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ صحیح کام کر رہے ہیں تو وہ آپ کی قدر کرتے ہیں، دوسری جانب ہر خاندان میں آپ کو بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔‘

کیٹ مڈلٹن نے اس انٹرویو کے دوران جہاں اپنے فرائض اور شاہی ذمہ داریوں پر بات کی وہیں انہوں نے اپنی شاہی خاندان میں شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شاہی خاندان میں شادی کرنا اُن کے لیے ایک ’اعصاب شکن‘ تجربہ تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’کیونکہ میں واقعی شاہی روایتوں کو نہیں جانتی، ولیم ظاہر ہے کہ  شاہی عادات اور روایتوں کا عادی ہے  لیکن میں جلدی سیکھنے اور اس پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں، میں اس کے لیے سخت محنت کروں گی۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *