April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/esperanzaazteca.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

Food shortages in Gaza have reached alarming levels. Photo: PTI

غزہ میں غذائی قلت انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل میں  برہمی بڑھتی جارہی ہے۔ بدھ کو تل ابیب میں  ان کے خلاف غیر معمولی مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ میں  گھسنے کی کوشش کی۔ حالات کو سنبھالنے کیلئے فوری طور پر سیکوریٹی بڑھانی پڑی۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو جو اپنا اقتدار بچانے کیلئے غزہ پر ۷؍ اکتوبر کے بعد سے مسلسل حملے کررہے ہیں، نہ یرغمالوں کو رہا کرانے میں  کامیاب ہوئے، نہ حماس کو ختم کرسکے اور نہ ہی اسرائیل میں  عوام کی حمایت حاصل کرسکے۔ 
اس بیچ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ان کی حکومت کے ارکان کے درمیان تناؤ اور دوسری طرف ان کی سیکوریٹی سروسیز کے درمیان کشیدگی ختم بڑھ رہی ہے۔ سیکورٹی اداروں اور نتن یاہو کے درمیان ایک تنازعہ چل رہا ہے کیونکہ عسکری قیادت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک وفد واشنگٹن جا رہا ہے۔ 
اسرائیلی حکومت نے بدھ کو کہا کہ وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ آئندہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ غزہ کی رفح میں طے شدہ کارروائی کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے بھی اعلان کیا کہ ایک وفد امریکی صدر جو بائیڈن کی درخواست پر طے شدہ حملے پر بات چیت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کرے گا جس کی امریکہ مخالفت کرتا ہے۔ انہیں کچھ دن پہلے وہائٹ ہاؤس کی طرف سے شائع کردہ ایک سرکاری اعلان کے ذریعے پتا چلا کہ اسرائیلی وفد امریکہ جائے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح پر حملے کے معاملے پر بات چیت کرنے اور متبادل منصوبوں کو سننے کے لیے واشنگٹن جانے والے وفود کے بارے میں مشاورت سے سیکورٹی اداروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ خارجہ امور اور سلامتی کمیٹی میں ہونے والی ایک کمرہ بند بحث میں کنیسٹ کے رکن زیو الکین نے نتن یاہو سے پوچھا کہ اگر رفح میں داخل ہونا طے ہے تو آپ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ایک وفد امریکہ کیوں بھیجیں گے؟۔ وزیر اعظم نے صرف جواب دیا کہ ہم رفح میں داخل ہوں گے ایک بار داخل ہونے کے بعد ہمیں کام ختم کرنے میں دو ماہ لگیں گے۔ 
اس بیچ غزہ شہر میں شفا میڈیکل کمپلیکس پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والو ں  کی تعداد ۲۵۰؍ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے اپنے چھاپوں کے دوران مریضوں، بے گھر لوگوں اور شہریوں پر گولیاں برسائیں  اور گولے اور میزائل داغے۔ 
غذاکی قلت، بچوں کی اموات میں اضافہ
عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ میں بھوک اور شدید غذائی قلت سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ترجمان عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس کے مطابق غزہ میں کام کرنے والے ڈاکٹرز بتارہے ہیں کہ وہ علاقے میں بھوک اور خوراک کی کمی کے بہت زیادہ اثرات دیکھ رہے ہیں جب کہ غزہ میں شدید غذائی قلت اور بھوک کی وجہ سے بچوں بالخصوص نوزائیدہ کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ترجمان کےمطابق ڈاکٹرز نے بتایا کہ وہ نومولودوں کو مرتا دیکھ رہے ہیں کیونکہ پیدائش کے وقت ان کا وزن بہت کم ہوتا ہے اور انہیں خوراک کی ضرورت ہے۔ حاملہ خواتین کو بھی خوراک کی کمی کے باعث بہت سی پیچیدگیوں اور مسائل کا سامنا ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *